کاروار 20؍اپریل (ایس او نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندراسمبلی ٹکٹ کے مسئلے پر جو اندرونی بغاوت ہے وہ ضلع شمالی کینرا میں اب سڑک پر اترتی دکھائی دے رہی ہے۔ ضلع میں اپنی پسند کے امیدواروں کو ٹکٹ دلانے اور اپنی قیادت کا پرچم لہرانے کا منصوبہ بنائے ہوئے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے لئے کمٹہ اسمبلی سیٹ کا مسئلہ پاؤں کی زنجیر بنتا دکھائی دے رہا تھا، مگر اندروانی بغاوت کے دوران بی جے پی نے یہاں دینکر شٹی کو اپنا اُمیدوار بناکر انتخابی اکھاڑے میں اُتارنے کا اعلان کیا ہے۔
سیاسی چہل پہل پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کمٹہ میں بی جے پی امیدواروں کا مسئلہ ایسا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ کسی بھی ایک امیدوار کو ٹکٹ دئے جانے پر یہاں شدید بغاوت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔خود بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے ساتھ اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کے بعد بھی اس کا کوئی حل نہیں نکلا تھا ۔اور اسی پس منظر میں یہ سرگوشیاں بھی سنائی دے رہی تھیں کہ ریاستی سیاست میں اننت کمار ہیگڈے کو اتارنے کے لئے کمٹہ کی اسمبلی سیٹ انہی کودی جائے گی۔ اس سے ایک طرف بغاوت کو کچلا جاسکے گا اوردوسری طرف کٹر ہندتواوادی لیڈر کو ریاستی سیاست میں سرگرم ہونے کا موقع دیا جاسکے گا۔لیکن پارٹی کے اندر کچھ حلقوں میں اس بات کو مسترد کرتے ہوئے بیانات بھی سامنے آ رہے تھے کہ اگر مرکزی وزیر کو کسی ایک حلقے سے امیدوار بنایاجائے گا تو پورے ضلع شمالی کینرا کی سیٹیں جیتنے کے لئے اننت کمار ہیگڈے کو جس طرح سرگرم رہنا ہوگا اس میں رکاوٹ آئے گی اوراس کے برے نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔اور ایک ایسے وقت میں جب پارلیمان میں بی جے پی کی کچھ حلیف پارٹیاں اس سے دور ہوتی جارہی ہوں، ایسے میں اپنے ایک اور ایم پی کو مستعفی کرکے ریاستی سطح پر لانے کے خیال کو بی جے پی کے اعلیٰ قائدین کو ترک کرنا پڑا۔
بی جے پی کاوہ زمانہ کب کا نکل گیا جب پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے امیدوار ڈھونڈنے کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ اب ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں والی سچویشن پید اہوگئی ہے۔ 2013کے انتخابات میں ایک ایک مقام سے دو دو امیدوار آس لگائے بیٹھنے کی بات دیکھنے کو ملی تھی۔ مگر اب 2018میں صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ہر اسمبلی حلقے میں ایک سے زائد امیدواروں کی قطار لگی ہوئی ہے۔
ضلع شمالی کینرا کی اگر بات کریں تو سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اپنی لیڈر شپ چمکانے کے لئے اننت کمار ہیگڈے نے جو بھی ہاتھ لگا اسے اسمبلی سیٹ پر امیدوار بنانے کا بھروسہ دلاکر بی جے پی میں کھینچ لانے کی کوشش کی۔ مگر سیاست کے میدان میں یہ خیال کرنا کہ جو پہلے سے سوچا تھا وہی ہوگا، اکثر غلط ثابت ہوجاتا ہے۔ اور اس بات کا احساس اننت کمار کو بڑی تاخیر سے ہوا ہے۔یہ صحیح ہے کہ بی جے پی کے اندر اننت کمار ہیگڈے کو ایک شعلہ بیان مقرر کا مقام حاصل ہے ، مگر وہ پارٹی کے عقلمند سیاست دانوں میں شامل نہیں ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اننت کمار ہیگڈے نے اپنے حامیوں کا گروہ بڑھانے اوراپنی پسند کے امیدواروں کوٹکٹ دلانے کی جو چالیں چلی تھیں ، وہی ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہے۔
اب حالت یہ ہے کہ یلاپور میں کانگریس کو انگوٹھا دکھاکر بی جے پی میں شامل کیے گئے کانگریسی لیڈر ایل ٹی پاٹل نے بی جے پی سے ٹکٹ نہ ملنے پر سرسی میں اننت کمار ہیگڈے کے گھر کے باہر ہی احتجاجی دھرنا دیاہے۔ادھر ہلیال میں جی آر پاٹل نے اپنے طبقے کے لوگوں کو جمع کرکے مرکزی وزیر کے خلاف بیانات دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
بھٹکل میں سابق کانگریسی ایم ایل اے اور موجودہ بی جے پی لیڈر جے ڈی نائک نے انہیں درکنار کرکے یہاں سنیل نائک کو ٹکٹ دئے جانے پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کردیا ہے۔ یہی حال کمٹہ کا تھا، سابق ایم ایل اے دینکر شیٹی کو ٹکٹ دینے کا یقین دلاتے ہوئے بی جے پی میں شامل کرلیا گیا تھا، ایسے میں یشودھر نائک جیسے کاروباری نے بھی ٹکٹ ملنے کے بھروسے پرہی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔سب سے بڑھ کر نوجوانوں کے لیڈر سورج نائک سونی بی جے پی کی ٹکٹ کی آس لگائے بیٹھے تھے۔اب ان میں سے دینکر شٹی کو ٹکٹ دی گئی ہے ، جس کو دیکھتے ہوئے اختلافات کا سراٹھانا لازمی دکھائی دے رہا ہے۔
دینکر شٹی کو ٹکٹ دینے کا اعلان ہوتے ہی اب خبریں آرہی ہیں کہ یشودھر نائک آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے، ایسے میں سابق بی جے پی اُمیدوار سورج سونی ، کیا کریں گے یہ دیکھنا اب دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔